📝 تعارفِ اسکول
آج کے مادی دور میں جہاں عصری تعلیمی اداروں (اسکولوں اور کالجوں) میں صحیح دینی تعلیم و تربیت کی کمی کے باعث الحاد، بے راہ روی، اور غنڈہ گردی جیسے منفی رجحانات عام ہو چکے ہیں؛ وہاں کسی بھی دیندار، شریف اور مخلص مسلمان کے لیے اپنے جگر گوشوں کو ایسے ماحول میں بھیجنا انتہائی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔
انہی سنگین حالات کا ادراک کرتے ہوئے اور مسلم امہ کے نونہالوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے "الجامعہ پبلک ہائی سکول" کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہاں مکمل اسلامی و اخلاقی ماحول کے اندر طلبہ کو اعلیٰ عصری تعلیم (ادنیٰ تا میٹرک) کے ساتھ ساتھ مضبوط دینی بنیاد (نورانی قاعدہ، ناظرہ قرآن کریم اور بنیادی تجوید) فراہم کی جاتی ہے۔ اسکول کے نصاب میں تعلیم سے بڑھ کر تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے؛ کیونکہ اخلاقی تربیت کے بغیر علم محض معلومات تک محدود رہ جاتا ہے، جس سے فائدے کے بجائے معاشرتی نقصان کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔
🎯 مقصد و غرض
الجامعہ پبلک ہائی سکول کے قیام کا بنیادی مقصد بچوں کو ایک ہی چھت کے نیچے، خالص اسلامی شعار کے مطابق دینی و عصری تعلیم و تربیت کا حسین امتزاج یکجا فراہم کرنا ہے۔ ہمارا ہدف یہ ہے کہ جب بچہ یہاں سے میٹرک کر کے نکلے، تو وہ نہ صرف عصری سائنس و فنون کا ماہر ہو، بلکہ ناظرہ قرآن مع التجوید مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ درسِ نظامی کی ابتدائی کتب اور روزمرہ کے بنیادی اسلامی مسائل و احکامات سے بھی پوری طرح واقف ہو چکا ہو۔ الغرض، الجامعہ پبلک ہائی سکول اعلیٰ علومِ شرعیہ (درسِ نظامی) کے حصول کے لیے ایک بہترین نرسری کا کردار ادا کر رہا ہے۔
⭐ اسکول کی نمایاں خصوصیات
الجامعہ پبلک ہائی سکول روایتی پرائیویٹ اسکولوں کے تجارتی نظام سے بالکل پاک ہے اور درج ذیل مایہ ناز خصوصیات کا حامل ہے:
- اکابر کی نگرانی: یہ اسکول جید اور مخلص علماء کرام کی براہِ راست سرپرستی اور نگرانی میں مکمل اسلامی سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔
- انتہائی کم اور برائے نام فیس: پرائیویٹ اسکولوں کے برعکس یہاں فیس کا بوجھ نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ یتیم اور مستحق بچوں کے لیے داخلہ اور تعلیم بالکل مفت ہے۔
- قرآنی تعلیم و گرائمر: روزانہ نمازِ ظہر کے بعد طلبہ کے لیے قرآنی تعلیم کا باقاعدہ سیشن ہوتا ہے۔ جن طلبہ کا ناظرہ اور تجوید کا مرحلہ مکمل ہو جاتا ہے، ان کے لیے ظہر کے بعد انگلش گرائمر کی خصوصی کلاسز کا انتظام کیا جاتا ہے۔
- رہائش و طعام (ہاسٹل): دور دراز کے علاقوں سے آنے والے پیاسے علمی مسافروں (طلبہ) کے لیے اسکول کی طرف سے بہترین ہاسٹل، رہائش اور مفت کھانے کا منظم انتظام موجود ہے۔
- سائنس لیب و لائبریری: طلبہ کی سائنسی اور فکری صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے اسکول میں جدید سائنسی آلات سے لیس لیبارٹری اور وسیع مطالعہ کے لیے لائبریری کی سہولت میسر ہے۔
📊 نظامِ امتحانات و حوصلہ افزائی
اسکول کے تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے سالانہ بنیادوں پر تین مرحلوں میں امتحانات منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں ہر امتحان کے درمیان تین ماہ کا وقفہ ہوتا ہے: یعنی سہ ماہی, ششماہی اور فائنل سالانہ امتحان۔ جماعت ادنیٰ سے لے کر ہشتم (آٹھویں) تک کے سالانہ امتحانات اسکول کے اندرونی بورڈ کے تحت سخت نگرانی میں ہوتے ہیں، جبکہ جماعت نہم و دہم (نائنتھ، ٹینتھ) کے امتحانات باقاعدہ ایبٹ آباد بورڈ کے زیرِ انتظام منعقد کروائے جاتے ہیں۔ امتحانات میں نمایاں پوزیشنز اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ہونہار طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں پروقار تقریب میں قیمتی انعامات و اسناد سے نوازا جاتا ہے۔
📜 ضروری شرائطِ داخلہ
الجامعہ پبلک ہائی سکول میں نئے تعلیمی سال کے داخلوں کا باقاعدہ آغاز ہر سال عید الفطر کے فوراً بعد ہوتا ہے اور یہ سلسلہ ایک مخصوص و محدود وقت تک جاری رہتا ہے۔ داخلہ فارم اور دفتری کارروائی مکمل ہوتے ہی باقاعدہ پڑھائی شروع کر دی جاتی ہے، لہٰذا خواہشمند سرپرست حضرات مقررہ ایام میں ہی رجوع فرمائیں۔
- پاسنگ سرٹیفکیٹ: جماعت ادنیٰ اور اعلیٰ کے علاوہ دیگر تمام کلاسوں میں داخلے کے لیے طالبِ علم کا سابقہ جماعت میں پاس ہونا لازمی ہے، اور پچھلے اسکول سے حاصل کردہ تصدیق شدہ اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ یا رزلٹ کارڈ لانا ضروری ہے۔
- شرعی وضع قطع: تمام داخلہ لینے والے طلبہ کے لیے لازم ہے کہ ان کا ظاہری لباس اور وضع قطع احکاماتِ شریعہ اور سنتِ نبوی ﷺ کے عین موافق ہو۔ امورِ شریعت سے متصادم کسی بھی قسم کی سرگرمی کی اسکول میں ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔
- سیاست سے مکمل دوری: دورانِ تعلیم کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں، تحریکوں یا پارٹی بازی کا حصہ بننا سخت ممنوع ہے۔ طلبہ پر لازم ہے کہ وہ اسکول کے اندر ہر قسم کے سیاسی بحث مباحثے سے مکمل احتراز کریں۔
العربية
English