📖 تعارف اور اہمیتِ فن
قرآنِ مجید کو اس کے صحیح مخرج، صفاتِ لازمہ و عارضہ اور حسنِ قرأت کے ساتھ تلاوت کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: 'وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا'۔ جامعہ اسلامیہ بنہ آلائی میں حفظِ قرآنِ کریم مکمل کرنے کے بعد طلبہ کے علمی ارتقاء اور فصاحتِ زبان کے لیے "شعبہ تجوید و قرأت" قائم ہے، جس کا بنیادی مقصد تلاوتِ کلامِ پاک میں لحنِ جلی اور لحنِ خفی جیسی باریک غلطیوں سے بچانا ہے۔
اس اہم شعبے کا باقاعدہ تعلیمی نصاب دو سال پر مشتمل ہے۔ اس میں سب سے زیادہ ارتکاز اور گہری توجہ 'حدر' اور 'مشق' پر دی جاتی ہے، تاکہ فارغ التحصیل ہونے والا ہر طالبِ علم قرآنِ مجید کو عربی لہجے اور خوبصورت تجویدی قواعد کے مطابق روانی سے پڑھنے پر کماحقہ قادر ہو سکے۔
⭐ شعبہ تجوید کی امتیازی خصوصیات
جامعہ اسلامیہ آلائی میں علمِ تجوید کو روایتی حدود سے نکال کر ایک جامع تعلیمی سانچے میں نافذ کیا گیا ہے، جس کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- ماہر قرآء کی زیرِ نگرانی تدریس: جامعہ کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ یہاں تجوید صرف مخصوص شعبے تک محدود نہیں بلکہ درجہ حفظ کے ساتھ ساتھ شعبہ درسِ نظامی کے طلبہ کو بھی ملک کے مایہ ناز اور مستند قرآءِ کرام کی سرپرستی میں یہ فن سکھایا جاتا ہے۔
- دینی و عصری علوم کا حسین امتزاج: اس شعبے کے طلبہ کو تجوید و قرأت کے علاوہ درسِ نظامی کی ابتدائی کتب (مثلاً ابتدائی صرف و نحو، فقہ اور اخلاقیات) بھی پڑھائی جاتی ہیں تاکہ ان کی علمی بنیاد مضبوط ہو۔
- باقاعدہ اسکول کا تسلسل: جامعہ کی انتظامیہ طلبہ کے وقت کو قیمتی بنانے کے لیے خصوصی انتظام کرتی ہے، جس کے تحت طلبہ صبح کے اوقات میں باقاعدہ اسکول کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور بعد نمازِ ظہر پوری دلجمعی کے ساتھ تجوید کی کلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔
- مفت سہولیاتِ زندگی: دیگر شعبہ جات کی طرح اس شعبے کے تمام زیرِ تعلیم طلبہ کو بھی رہائش، معیاری طعام اور ضروری سہولیاتِ زندگی جامعہ کی جانب سے مکمل مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
📝 نظامِ امتحانات اور تعلیمی بورڈ
شعبہ تجوید و قرأت کے تعلیمی معیار کو پرکھنے کے لیے تعلیمی سال کے اختتام پر باقاعدہ کڑے امتحانات لیے جاتے ہیں:
- مرکزی امتحان: تعلیمی سال مکمل ہونے پر شعبہ تجوید کے تمام مستحق طلبہ کا سالانہ نظری (Theory) اور عملی (Practical) امتحان وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی امتحانی بورڈ کے تحت ماہِ رجب المرجب کے آخری ایام میں منعقد کیا جاتا ہے۔
- حوصلہ افزائی و انعامات: وفاقی امتحانات اور داخلی ٹیسٹوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے اور خوش الحان طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے جامعہ کی جانب سے نقد وظائف، تعریفی اسناد اور قیمتی کتب کے انعامات دیے جاتے ہیں۔
📜 قواعد وضوابط اور شرائطِ داخلہ
شعبہ تجوید میں نئے تعلیمی سال کے لیے داخلے کا باقاعدہ عمل ماہِ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں شروع ہوتا ہے اور باقاعدہ کلاسیز عید الفطر کے فوراً بعد شوال المکرم سے شروع ہوتی ہیں:
- شعبہ تجوید میں داخلہ لینے کے لیے طالبِ علم کا حافظِ قرآن ہونا اور اردو لکھنے پڑھنے پر مکمل قادر ہونا بنیادی شرط ہے۔
- طالبِ علم کے لیے لازمی ہے کہ اس کا لباس، وضع قطع اور اخلاق مکمل طور پر احکاماتِ شریعہ اور سنتِ نبوی ﷺ کے موافق ہوں اور وہ کسی غیراخلاقی یا نظم و ضبط کے منافی سرگرمی کا حصہ نہ رہا ہو۔
- دورانِ تعلیم کسی بھی قسم کی سیاسی جماعت سے وابستگی، سیاسی سرگرمیوں یا بحث و مباحثہ میں حصہ لینے پر سخت پابندی عائد ہے، خلاف ورزی پر داخلہ فوری خارج کر دیا جائے گا۔
- تعلیمی نظام کو چست رکھنے کے لیے بلا عذرِ شرعی ناغہ کرنا ممنوع ہے، اور حاضری کی شرح کم ہونے پر امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
العربية
English