وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا انتخابی اجلاس اور مجلس عاملہ کے اہم فیصلے
حال ہی میں جامعہ دارالعلوم کراچی میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور انتخابی اجلاس منعقد ہوا۔ اس تاریخ ساز اجلاس میں پاکستان بھر کے مدارس سے جید علماء کرام اور نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ جامعہ اسلامیہ آلائی کی طرف سے قاری سلطان الحق صاحب نے نمائندگی کے فرائض سرانجام دیے۔
یہ ایک انتخابی اجلاس تھا جس میں تمام شرکاء نے مکمل اتفاقِ رائے کے ساتھ اہم ترین عہدیداروں کا انتخاب کیا۔ اجلاس نے متفقہ طور پر فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کو آئندہ پانچ سال کے لیے وفاق المدارس کا صدر، جبکہ حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب کو جنرل سیکرٹری منتخب کر لیا ہے۔
اس اجلاسِ عمومی میں قائد وفاق حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب کے تفصیلی خطاب اور مجلس عاملہ کے متفقہ فیصلوں کی روشنی میں مدارس کے تعلیمی و انتظامی معاملات کے حوالے سے درج ذیل 15 نکاتی اہم خلاصہ اور پالیسیاں جاری کی گئیں:
- 1. امتحانات کا انعقاد: آئندہ سال وفاق کے تحت امتحانات ایک ہی مرحلے میں ہوں گے اور ان شاء اللہ ایک ہفتے کے اندر مکمل کر لیے جائیں گے۔
- 2. نقل کے خلاف سخت کارروائی: امتحانات میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے، نقل کرنے والے طالب علم کے ساتھ ساتھ متعلقہ مدرسہ اور نگران عملہ بھی جوابدہ ہوگا۔
- 3. نگران عملے کا انتخاب: مدارس سے امتحان کی نگرانی کے لیے وہی اساتذہ لیے جائیں گے جن کے مدرسے کا الحاق جس درجے تک ہوگا۔ مثلاً اگر مدرسے کا الحاق عالمیہ تک ہے، تو نگرانی کے لیے بھی عالمیہ تک پڑھانے والے اساتذہ ہی لیے جائیں گے۔
- 4. پرچہ جات کی چیکنگ: پرچوں کی جانچ پڑتال کے لیے مدارس سے جید اور اہل اساتذہ کا انتخاب کیا جائے گا جو عالمیہ تک کے اسباق پڑھانے کا تجربہ رکھتے ہوں۔
- 5. وفاقی نصاب کی پابندی: وفاق المدارس کے بنائے ہوئے نصاب کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ معیارِ تعلیم کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ غیر وفاقی نصاب کو ترک کر کے اکابرین کے وضع کردہ نصاب کو یقینی بنایا جائے۔
- 6. عصری علوم کی شمولیت: عصرِ حاضر کے تقاضوں کے پیشِ نظر مدارس میں عصری علوم کو ضروری حیثیت میں پڑھایا جائے، اور اس کے لیے وفاق کا تیار کردہ عصری نصاب ہی رائج کیا جائے۔
- 7. آن لائن تعلیم کے امتحانات: آن لائن تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کا امتحان وفاق المدارس نہیں لے گا، بلکہ متعلقہ مدارس خود ان کا امتحان لینے کے پابند ہوں گے۔
- 8. دراساتِ دینیہ آن لائن: دراساتِ دینیہ کا جو نصاب وفاق نے ترتیب دیا ہے، اسے آن لائن پڑھانے کی اجازت ہوگی اور اس مخصوص کورس کا امتحان وفاق کے تحت ہی ہوگا۔
- 9. تربیتی پروگرامز کا انعقاد: مدارس کی نگرانی، سرپرستی اور مجموعی نظام کو بہتر بنانے کے لیے مدارس کی تربیت کے لیے باقاعدہ پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا۔
- 10. بنات (طالبات) کا نصاب: بنات کے نصاب پر نظرِ ثانی کا عمل جاری ہے۔ مدارس سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ اپنی تجاویز فوری طور پر مرکزی دفتر کو ارسال کریں۔
- 11. وفات پانے والے عملے کی مالی معاونت: وفاق کی خدمت کے دوران وفات پانے والے نگران اور دفتر کے عملے کے لواحقین کی وفاق کی جانب سے مالی معاونت کی جائے گی۔
- 12. صوبائی سطح پر اجتماعات: صوبائی سطح پر مدارس کے اجتماعات کا بہت جلد انعقاد کیا جائے گا، اور ان کی تاریخوں کا اعلان عنقریب کر دیا جائے گا۔
- 13. مدارس کی رجسٹریشن پر مؤقف: وفاق کی قیادت مدارس کی رجسٹریشن کے مسئلے پر متحرک اور فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ مدارس اپنی آزادی اور خودمختاری کو سامنے رکھتے ہوئے قانون کے تحت رجسٹریشن کرانے کو تیار ہیں۔ تاہم، حکمرانوں یا بین الاقوامی دباؤ کی خواہش پر کوئی نیا قانون ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
- 14. 26ویں آئینی ترمیم اور مدارس: گزشتہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت قومی اسمبلی سے پاس شدہ بل کے مطابق مدارس رجسٹریشن کرانے کو تیار ہیں، مگر حکومت کا مدارس کو اپنی مرضی سے وزارتِ تعلیم کے ماتحت بنانے پر بضد ہونا قابلِ قبول نہیں ہے۔
- 15. مدارس کی آزادی اور خودمختاری: مدارس کی آزادی، نصابِ تعلیم اور نظامِ تعلیم پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
العربية
English